قانون

بازار روزگار میں امتیازی برتاؤ کے خلاف منع کا قانون وغیرہ

بازارروزگار میں امتیازی برتاؤ کے خلاف منع کاقانون وغیرہ: نسل، جلد کی رنگت، مذہب یا عقیدے، سیاسی رائے، جنسی رجحان، عمر، معذوری یا قومیت ، سماجی تہذیبی وثقافتی روایات والی اصلیت کی بنیاد پربراہ راست اور بالواسطہ امتیازی سلوک روا رکھنے کو منع کرتا ہے۔ ( ہر ایک وجہ کے آگے عبارتی حصہ میں لنک ہو گا)

اس قانون کا اطلاق تنخواہ وصول کرنے والے یا خالی اسامی کے لئے درخواست دہندہ، تقرری، برطرفی، تبدیلی، ترقی پانے یا تنخواہ یا ملازمت کی شرائط جیسے امور پر ہوتا ہے۔ کسی آجر کو ملازمین کے ساتھ پیشہ وارانہ رہنمائی، پیشہ وارانہ تعیلم و تربیت، پیشہ وارانہ نوعیت کی اعلیٰ تعلیم کے حصول اور دوبارہ سکول جانے کے سلسلہ میں امتیازی سلوک روا رکھنےکی اجازت نہیں ہے۔ امتیازی سلوک کے خلاف منع ہرایسے شخص پر لاگو ہوتی ہے جو پیشہ ورانہ رہنمائی اورتعلیم و تربیت بہم پہنچانے کا کاروبار کرتا ہے اور جو کوئی بھی روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں مصروف ہو۔ مزید برآں یہ ہر اس فرد پر عائد ہوتا ہے جو قوائد بنائے اور نجی کاروبار چلانے تک رسائی کے بارے میں فیصلہ کرے۔ اس کے ساتھ ہی اس کا اطلاق ہر ایسے فرد پر ہوتا ہے جو تنخواہ داروں یا-آجروں کی تنظیم میں رکنیت اور شمولیت کے حصول کے متعلق معاملات طے کرتا ہو، یا ایسی تنظیموں کے بارے میں فیصلے کرتا ہو، جن کے اراکین ایک خاص پیشہ کی پریکٹس کرتے ہوں، ایسی تنظیمیں جو اراکین کو فوائد پہنچاتی ہوں۔

اس قانون کا اطلاق پرائیویٹ اور سرکاری کاروباری اداروں ہر دو پر ہوتا ہے۔

قانون کی عبارت کے لئے لنک۔ https://www.retsinformation.dk/forms/r0710.aspx?id=122522


عورتوں اور مردوں کے مابین مساوات کے بارے میں قانون


عورتوں اور مردوں کے درمیان مساوات کے قانون کے مطابق کسی ایک فرد کو دوسرے فرد کے ساتھ جنس کی بنیاد پر براہ راست یا بالواسطہ امیتازی سلوک روا رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ قانون ہر ایک آجر، سرکاری محکمے، تنظیم، پبلک انتظامیہ اور عمومی کاروباری ادارے پر لاگو ہوتا ہے۔ اس قانون کا اطلاق اتھارٹیز، تنظیموں سمیت تمام ایسے افراد پر ہوتا ہے جو نجی اور سرکاری ہر دو شعبوں میں اشیاء کی ترسیل کرتے ہیں، خدمات سرانجام دیتے ہیں، جن تک پبلک کی رسائی ہو، اس میں سرکاری ادارے شامل ہیں جن کی سہولیات کی پیشکش ذاتی اور خاندانی زندگی کی حدود سے باہر کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں لین دین بھی شامل ہے۔

قانون کی عبارت کے لئے لنک۔ https://www.retsinformation.dk/forms/r0710.aspx?id=20929

 

ملازمت کے سلسلے میں عورتوں اور مردوں کے مابین مساویانہ برتاؤ کے بارے میں قانون

عورتوں اور مردوں کےمابین مساویانہ برتاؤ کے بارے میں قانون روزگار کے حصول وغیرہ کے ضمن میں جنس کی بنا پر امتیازی سلوک روا رکھنے کی ممانعت کرتا ہے۔ اس ممانعت کا اطلاق حمل کے حوالے سے ہے یا ازدواجی یا خاندانی حیثیت کی صورتوں میں ہوتا ہے۔

اس قانون کا اطلاق تقرری، تبدیلی، ترقی پانے اور ملازمت کی شرائط جیسے امور پر ہوتا ہے، نیز اس کا اطلاق پیشہ وارانہ رہنمائی، پیشہ وارانہ تعیلم و تربیت، پیشہ وارانہ نوعیت کی اعلیٰ تعلیم کے حصول اور دوبارہ سکول جانے کے سلسلہ میں ہوتا ہے۔ مزید برآں یہ قانون رہنمائی اور پیشہ وارانہ تعلیم و تربیت کا کاروباری ادارہ چلانے والے ہر ایک شخص پر عائد ہوتا ہے۔

مساویانہ سلوک روا رکھنے کا فرض ہر ایک ایسے فرد کا بھی ہوتا ہے جو نجی کاربار تک رسائی کے سلسلہ میں قواعد و ضوابط بناتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے۔ اس کا اطلاق کاروبار تشکیل دینے، تبدیلی لانے یا توسیع دینے پر ہوتا ہے، نیز ہرقسم کا نجی کاروبار شروع کرنے اور توسیع دینے، بشمول اس کی فنانسنگ۔ مزید برآں مساویانہ برتاؤ کا فرض ہر ایک پر عائد ہوتا ہے جو پیشہ وارانہ تعلیم وغیرہ اور اس قبیل کے کاروبار کی شرائط اور عمل درآمد کے بارے میں قواعد و ضوابط بناتا ہے اور فیصلہ کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔ اسی طرح اس قانون کا اطلاق ہر اس شخص پر ہوتا ہے جو تنخواہ داورں، آجروں کی تنظیموں یا ایسی تنظیموں جن کے اراکین ایک مخصوص پیشہ اختیار کرتے ہوں اُن کی رکنیت کے بارے میں فیصلے کرے، یعنی ایسی تنظیمیں جو اراکین کو فوائد پہنچاتی ہوں۔

قانون کی عبارت کے لئے لنک۔ - https://www.retsinformation.dk/forms/r0710.aspx?id=30750

 

مساوی تنخواہ کے بارے قانون

عورتوں اور مردوں کی مساوی تنخواہ کے قانون کے تحت جنس کی بنیاد پر اجرت کے تعین میں امتیازی سلوک نہیں روا رکھا جا سکتا ہے۔ یوں ایک مرد اور خاتون کام دہندہ کو ایک ہی نوعیت کے کام کے لئے یکساں اجرت دینی ہو گی۔ یکساں نوعیت یا یکساں قدرو قیمت کے حامل کام کے لئے یکساں شرائط ملازمت کی پیشکش کرنی ہوگی۔

قانون کی عبارت کے لئے لنک۔ https://www.retsinformation.dk/forms/r0710.aspx?id=121176

 

غیر ڈینش تہذیبی و ثقافتی روایات والوں (etnisk) سے مساویانہ برتاؤ (بازار راوزگار سے باہر)

غیر ڈینش تہذیبی اورثقافتی روایات کے حامل (etnisk) لوگوں کے ساتھ مساویانہ برتاؤ کا قانون نسل، یا تہذیبی و ثقافتی روایات والی اصلیت کی بنا پر امتیازی سلوک روا رکھنے کی ممانعت کرتا ہے۔ یہ قانون سب پر لاگو ہوتا ہے۔ اس کا اطلاق سماجی تحفظ کے ضمن میں ہوتا ہے، یعنی سوشل ضمانت مہیا کرنا کہ سب کو حفظانِ صحت، معاشرتی سہولیات اور فائدے ملیں گے۔ علاوہ ازیں اشیا کی ترسیل اورخدمات تک رسائی یعنی مکان ملنا اور جو چیزیں پبلک کی دسترس میں ہیں ان کا میسر آنا۔

جہاں تک اشیاء کی ترسیل اور خدمات کی انجام دہی کا تعلق کاروباری ادارے اور اس کے گاہکوں، صارفین، خریداروں وغیرہ سے ہے، اس ضمن میں امتیازی برتاؤ کی مناہی ہے۔

جبکہ بازارِ روزگار میں پہلے سے ہی امتیازی سلوک روا رکھنے کے خلاف قانون نافذ ہو، تو قطعی طور پہ ذاتی نوعیت کی سرگرمیوں پر تہذیبی و ثقافتی روایات والی اصلیت کے خلاف امتیازی سلوک کے قا نون کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔

قانون کی عبارت کے لئے لنک۔ https://www.retsinformation.dk/Forms/R0710.aspx?id=28938

 

نسل وغیرہ کی بنا پر امتیازی برتاؤ کے خلاف قانون

یہ قانون مزکورہ بالا دیوانی قانون کے برعکس فوجداری قانون ہے۔ مراد یہ کہ اگر کسی کا خیال ہو کہ اس قانون کی رو سے اس کے حقوق کو مجروح کیا گیا ہے، تو وہ اس کی رپورٹ پولیس کو کرے۔ قانون کے تحت یہ بات طے شدہ ہے کہ تجارتی یا پبلک استعمال کے ادارہ کی حدود میں خدمات فراہم کرنے والی جگہوں کے اندر کسی فرد کے ساتھ بھی اس کی نسل، جلد کی رنگت، قومیت یا تہذیبی و ثقافتی روایات کی اصلیت، عقیدہ یا جنسی رجحان کی بنیاد پر امتیازی سلوک روا رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ مزید برآں جو فرد تجارتی یا پبلک استعمال کے ادارہ کی حدود میں شمار ہوتا ہو وہ کسی جگہ میں، نمائش، (سنیما تھیٹرٕ) کے شو، اجتماعی تقریبات یا اس جیسے دیگر مواقع جن میں سب لوگ جا سکتے ہوں، کسی فرد کو دوسروں کے ساتھ برابری کی شرائط پر داخلہ سے انکار نہیں کرسکتا۔

اس قانون کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ یا 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

قانون کی عبارت کے لئے لنک۔ https://www.retsinformation.dk/Forms/R0710.aspx?id=59249

  

قانونِ تعزیرات

قانونِ تعزیرات کی شق§ 266b نسل، جلد کی رنگت، قومی یا تہذیبی و ثقافتی روایات والی اصلیت، عقیدہ یا جنسی رجحان کی بنیاد پر افراد کے کسی گروہ کے خلاف دھمکی آمیز، توہین آمیز اور تذلیل آمیز بیان و پروپیگنڈہ کی ممانعت کرتی ہے۔ یہ بیان سب سامنے ہو یا ایک وسیع حلقہ میں پھیلاؤ کے مقصد کے لئے پیش کیا گیا ہو۔ امتناع کی خلاف ورزی کی وجہ سےدو سال تک کی قید سزا ہوسکتی ہے۔ فرد واحد کے خلاف بیان دئیے جانے کی صورت میں، جبکہ یہ بیان اس فرد کی بحیثیت ایک گروہ کے رکن کے متعلق نہ ہو تو اس کا نتیجہ امن برباد کرنے

قانونِ تعزیرات کی شق§ 81 nr. 6 کی رو سے سزا کا تعین حالات و واقعات کی سختی کے تناظر میں کیا جاتا ہے، کیونکہ ارتکاب کے پس منظر میں دوسروں کی تہذیبی و ثقافتی روایات والی اصلیت، عقیدہ، جنسی رجحان جیسے عوامل شامل ہیں۔ یہ ضابطہ ایسے واقعہ کو ہدف بناتا ہے، جس میں جرم کے مقصد کو مکمل یا جزوی طور پران صورتوں سے منسوب کیا جا سکے۔ ان الفاظ کی وضاحت ‘‘تہذیبی و ثقافتی روایات والی اصلیت، عقیدہ، جنسی رجحان اور اس جیسے عوامل’’ بنیادی طور ہر قانونِ تعزیرات کی شق § 266b کی روشنی میں کی جانی چاہیے۔ قانونِ تعزیرات کی شق§ 81 nr. 6 جرم کی کسی خاص قسم یا واقعہ تک ہی محدود نہیں ہے جس میں مرتکب کا مقصد فرد واحد یا افراد کے گروپ کو دھمکانا، توہین یا تذلیل کرنا ہو۔ صورت احوال کے تقاضے کے مطابق یہ ضابطہ قابل استعمال ہوتا ہے، مثال کے طور پر مالی جرم جس کے ارتکاب کا مطمع نظر نسل پرست تنظیم کی معاونت کرنا ہو ،اور مرتکب اس کا رکن ہو۔ 

قانون کی عبارت کے لئے لنک۔ https://www.retsinformation.dk/forms/r0710.aspx?id=133530

 

انتظامیہ کی قانونی مساوات کے مسلمہ اصول

ڈینش انتظامی عمل درآمد کی روایت میں قانون کے متعدد بنیادی مسلمہ اصول ہیں جو محکموں سے کارگر ہونے کے متقاضی ہوتے ہیں۔ ان بنیادی مسلمہ اصولوں میں سے ایک یہ کہتا ہےکہ، یکساں معاملات میں یکساں قانونی برتاؤ کیا جا ئے۔ یوں اس تقاضے کو تقویت ملتی ہے کہ انتظامیہ کے صوابدیدی فیصلہ کی اساس صرف اور صرف غیر جانبداری پر مبنی ہونی چاہئیے۔ مراد یہ کہ اگرایک ٹھوس معاملہ میں عمر کو ایک حقیقی اورغیرجانبدارانہ وجہ نہیں گردانا جاتا ہے، تو کمیون اپنے فیصلہ میں عمر کو وجہ بنا کر اس طرح مثلاً عمر رسیدہ لوگوں کو یکساں صورت احوال میں دوسروں کے مقابلہ میں برے حالات سے دو چار نہیں کر سکتی ہے۔

  

(EU) ای یو- یورپی یونین - کی طرف سے قانونی علامیہ

ای یو کی ہدایات برائے روزگارٕ( کاؤنسل کا قانونی علامیہ (Rådets direktiv 2000/78/EF af 27. november 2000 روزگار اور پیشہ وارانہ معاملات کے حوالہ سے ایک عمومی قانونی علامیہ فراہم کرتا ہے۔)

قانونی علامیے کا ہدف امتیازی سلوک روا رکھنے کے خلاف جد و جہد کرنا ہے۔

 

ای یو کاؤنسل کا قانونی علامیہ (Rådets direktiv 2000/43/EF af 29. juni 2000 جو بلا امتیاز نسل یا تہذیبی و ثقافتی روایات والی اصلیت کے تمام لوگوں کے ساتھ مساویانہ برتاؤ کے اصول پر عمل درآمد کے بارے میں ہے۔

فانونی علامیے کا ہدف امتیازی سلوک روا رکھنے کے خلاف جد و جہد کرنا ہے۔

اشیاء کی ترسیل اور خدمات کی فراہمی تک رسائی کے ضمن میں عورتوں اور مردوں کے ساتھ مساویانہ برتاؤ کے بارے میں ای یو کاؤنسل کا قانونی علامیہ : (Rådets direktiv 2004/113/EC af 13. december 2004 اشیاء کی ترسیل اور خدمات کی فراہمی تک رسائی کے ضمن میں عورتوں اور مردوں کے مابین مساویانہ برتاؤ کے قانونی علامیے کے نفاذ کے متعلق ہے۔)

قانونی علامیے کا ہدف امتیازی سلوک روا رکھنے کے خلاف جد و جہد کرنا ہے۔

عورتوں اور مردوں کو ملازمت اور پیشہ وارانہ معاملات میں یکساں مواقع میسر ہونے میں مساویانہ برتاؤ کے اصول پر عمل درآمد کے ضمن میں ای یو کاؤنسل کا قانونی علامیہ : (Rådets direktiv 2006/54/EC af 5. juli 2006 عورتوں اور مردوں کو روزگار اورپیشہ وارانہ معاملات میں یکساں مواقع میسر ہونے میں مساویانہ برتاؤ کے اصول پر عمل درآمد کے ضمن میں ہے۔)

قانونی علامیے کا ہدف امتیازی سلوک روا رکھنے کے خلاف جد و جہد کرنا ہے۔

ای یو کے قانونی علامیوںکا مختلف قانون سازی کے ذریعہ ڈینش نظامِ قانون میں نفاذ کیا گیا ہے۔

ایک واقعہ کی رجسٹری کریں